You are here:    Home      Urdu News      پارلیمنٹ میں ایسی قانون سازی کی جائے جس سے منی لانڈرنگ کا جڑ سے خاتمہ ممکن ہو

پارلیمنٹ میں ایسی قانون سازی کی جائے جس سے منی لانڈرنگ کا جڑ سے خاتمہ ممکن ہو

October 7, 2018
Published in Urdu News
Comments are off for this post.

لاہور:امیر جماعت اسلامی صوبہ وسطی پنجاب امیر العظیم نے کہاہے کہ برطانیہ اور امارات میں پاکستانیوں کی نئی10ہزار جائیدادوں کے انکشاف پر قوم میں تشویش پائی جاتی ہے۔ملکی خزانے کونقصان پہنچانے والے اور ٹیکس چور قومی مجرم ہیں۔بیرون ملک غیر قانونی طورپر جائیدادیں بنانے والے کسی بھی قسم کی رعایت کے مستحق نہیں،ان کی جائیدادوں کو ضبط کیاجانا چاہئے۔پارلیمنٹ میں ایسی قانون سازی کی جائے جس سے منی لانڈرنگ کا جڑ سے خاتمہ ممکن ہو۔انہوں نے کہاکہ برطانیہ اور امارات میں بے نقاب ہونے والی جائیدادوں کی تعداد اس سے کئی گنازیادہ ہوسکتی ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ کرپٹ اور منی لانڈرنگ میں ملوث افراد کو غیر قانونی ذرائع بتانے والے سرکاری افسران کے خلاف بھی کارروائی کویقینی بنایاجائے۔انہوں نے کہاکہ دولت کی غیر منصفانہ تقسیم کے باعث ملک میں امیر پہلے سے زیادہ امیر اور غریب پہلے سے زیادہ غریب ہورہا ہے۔عوام کا معیار زندگی اس وقت تک بلند نہیں ہوسکتا جب تک کرپشن کا مکمل قلع قمع اور کرپٹ افراد کو اہم عہدوں سے ہٹانہیں دیاجاتا۔پانامالیکس میں بے نقاب ہونے والے دیگر پاکستانیوں اورقومی خزانہ لوٹنے والوں کا کڑااحتساب ہونا چاہئے۔انہوں نے کہاکہ وزیر خزانہ کا آئی ایم ایف سے قرض کے حصول کے لیے مذاکرات کی نوید سنانا اس بات کاثبوت ہے کہ تحریک انصاف نے انتخابات سے قبل جو وعدے کیے تھے وہ زمینی حقائق سے مختلف ہیں اور ان میں کوئی صداقت نہیں۔پی ٹی آئی کے اقتدار میں آتے ہی ملک میں اشیائے ضروریہ کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگی ہیں۔حکومت عوام کی مشکلات کم کرنے کی بجائے ان میں مسلسل اضافے کا سبب بنی ہوئی ہے ۔موجودہ حکمرانوں میں معاملات کو حل کرنے کے لیے فہم وفراست کی کمی نظر آتی ہے۔امیر العظیم نے مزید کہاکہ وفاقی کابینہ میں دن بدن اضافہ لمحہ فکریہ ہے۔ جس ملک کی نصف آبادی پہلے ہی سطح غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہو اور قومی خزانہ خالی ہونے کاحکومت واویلابھی کرتی ہو،ایسے میں وزراء کی فوج ظفر موج قومی خزانے پر بھاری بوجھ کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ سادگی اورکفایت شعاری محض بیانات تک ہی محدود نہیں ہونی چاہئے بلکہ سنجیدگی سے اس پر عمل درآمد بھی کیاجانا چاہئے۔

Comments are closed.

Our Mission

Jamaat views regarding the three terms ‘Al-Deen’, Divine Order’, and ‘Islamic Way of Life’ as synonyms.

Our mission of ‘Establishment of Deen’ does not mean establishing some part of it, rather establishing it in its entirety, in individual and collective life, and whether it pertains to prayers or fasting, haj or zakat, socio-economic or political issues of the life.

It is incumbent upon a believer to strive for establishing Islam in its entirety without discretion and division, and believer’s real objective is to attain Allah’s pleasure and success in the this world and hereafter, this cannot be realized without trying to establish Allah’s Deen in this world.

Contact Information

Head Office, Jamaat E Islami Punjab
Mansoora, Multan Road Lahore.

Email: info@punjabjamaat.org.pk

Phone: +92 42 35252177, +92 42 35437990-1

Fax: +92 42 35427685




Facebook   |   Twitter   |   Google Plus

Our Location